مواد پر جائیں مواد پر جائیں
کرکٹ رن ریٹ کی 5 غلطیاں جو شائقین 2026 میں کرتے ہیں
آرکائیو پر واپس جائیں مضمون

کرکٹ رن ریٹ کی 5 غلطیاں جو شائقین 2026 میں کرتے ہیں

کرکٹ میں رن ریٹ فی اوور بنائے گئے رنز کا حساب ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ ٹیم کے بیٹنگ رن ریٹ اور مخالف کے بیٹنگ رن ریٹ کا فرق ہوتا ہے۔ یہ پیمانہ پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹورنام...

19 اکتوبر، 2026 5 min read

کرکٹ رن ریٹ کی 5 غلطیاں جو شائقین 2026 میں کرتے ہیں

کرکٹ میں رن ریٹ فی اوور بنائے گئے رنز کا حساب ہے، جبکہ نیٹ رن ریٹ ٹیم کے بیٹنگ رن ریٹ اور مخالف کے بیٹنگ رن ریٹ کا فرق ہوتا ہے۔ یہ پیمانہ پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹورنامنٹس میں پوائنٹس برابر ہونے پر اہم بن جاتا ہے۔ بنیادی فارمولا ہے: رن ریٹ = کل رنز ÷ کھیلے گئے اوورز، اور نیٹ رن ریٹ = ٹیم کی رن بنانے کی شرح − مخالف کی رن بنانے کی شرح۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹.۰۰ ہے، جبکہ ۱۷۰ رنز کا رن ریٹ ۸.۵۰ ہوگا؛ فرق +۰.۵۰ بنتا ہے۔ آل آؤٹ ہونے پر مقررہ اوورز استعمال ہوتے ہیں، صرف کھیلے گئے اوورز نہیں۔ درست نتیجے کے لیے اوورز کو اعشاریہ نہیں بلکہ گیندوں میں تبدیل کریں، پھر شرح نکالیں۔

Wisdom of Athena · Free demo

مزید جانیں

کرکٹ اسکور بورڈ پر رنز، اوورز اور رن ریٹ کے اعداد کے ساتھ روشن اسٹیڈیم کا منظر

کرکٹ میں رن ریٹ کی 5 بڑی غلطیاں کون سی ہیں؟

رن ریٹ نکالتے وقت سب سے زیادہ غلطیاں اوورز کی تشریح، آل آؤٹ اننگز، ہدف کے تعاقب اور مجموعی ٹورنامنٹ حساب میں ہوتی ہیں۔ ایک گیند کو مکمل اوور سمجھ لینا، مثلاً ۱۹.۵ اوورز کو ۱۹.۵ سے تقسیم کرنا، نتیجہ بدل دیتا ہے؛ اصل میں یہ ۱۱۹ گیندیں ہیں۔ اسی طرح بارش سے متاثرہ میچ میں عام اسکور استعمال کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ ڈک ورتھ لوئس اسٹرن نظام کے بعد نیا ہدف اور دستیاب اوورز لاگو ہوتے ہیں۔

درست حساب کے لیے پہلے اسکور کارڈ سے کل رنز، قانونی گیندیں، مقررہ اوورز اور مخالف کے رنز نوٹ کریں۔ پھر ہر اننگز کا رن ریٹ نکالیں، آخر میں نیٹ رن ریٹ بنائیں۔ وکٹوں کی تعداد اس فارمولے میں شامل نہیں ہوتی؛ پاکستان، آسٹریلیا، بھارت یا نیوزی لینڈ میں سے کوئی ٹیم ایک وکٹ سے جیتے یا نو وکٹ سے، رن ریٹ کا بنیادی حساب رنز اور اوورز پر ہی رہتا ہے۔

  • غلطی ۱: اعشاریہ اوور کو اعشاریہ عدد سمجھنا۔
  • غلطی ۲: آل آؤٹ ٹیم کے لیے اصل کھیلے گئے اوور استعمال کرنا۔
  • غلطی ۳: صرف جیتنے والی ٹیم کا رن ریٹ دیکھنا۔
  • غلطی ۴: بے نتیجہ میچ کو زبردستی شامل کرنا۔
  • غلطی ۵: ایک میچ کے فرق کو پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ سمجھنا۔

کرکٹ اسکور کارڈ پڑھنے کا مکمل طریقہ

پہلی غلطی: اوورز کا حساب غلط کیسے ہوتا ہے؟

اوورز کو ہمیشہ قانونی گیندوں میں تبدیل کرنا چاہیے؛ ۱۹.۵ اوورز کا مطلب ۱۹ اوور اور ۵ گیندیں، یعنی ۱۱۹ گیندیں ہے، نہ کہ ۱۹.۵ اوور۔ اس لیے ۱۲۰ رنز کو ۱۹.۵ سے تقسیم کرنے کے بجائے ۱۲۰ کو ۱۱۹ سے ضرب دے کر ۶ سے تقسیم کریں، نتیجہ تقریباً ۶.۰۵ رنز فی اوور ہوگا۔ یہی اصول ۹.۳، ۱۴.۲ اور ۷.۴ اوورز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

رن ریٹ کا عملی فارمولا یہ ہے: کل رنز × ۶ ÷ قانونی گیندیں۔ اگر بھارت نے ۱۷ اوور اور ۴ گیندوں میں ۱۴۰ رنز بنائے، تو قانونی گیندیں ۱۰۶ ہوں گی اور رن ریٹ ۱۴۰ × ۶ ÷ ۱۰۶، یعنی تقریباً ۷.۹۲ ہوگا۔ وائڈ اور نو بال اوور کی قانونی گیندوں میں شامل نہیں ہوتیں، مگر ان سے ملنے والے رنز ٹیم کے مجموعے میں ضرور شامل رہتے ہیں۔ آئی سی سی کے قوانین میں قانونی ڈیلیوری اور اوور کی یہی بنیادی منطق استعمال ہوتی ہے۔

یہ چھوٹا فرق بڑے ٹورنامنٹ میں کافی اہم ہے۔ مثال کے طور پر +۰.۱۰ اور +۰.۳۰ کے نیٹ رن ریٹ کے درمیان معمولی دکھائی دینے والا فرق گروپ مرحلے میں پاکستان سپر لیگ یا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی درجہ بندی بدل سکتا ہے۔

دوسری غلطی: آل آؤٹ ٹیم کا رن ریٹ کیسے نکالیں؟

آل آؤٹ ٹیم کے لیے رنز کو مکمل مقررہ اوورز سے تقسیم کیا جاتا ہے، چاہے ٹیم اس سے پہلے آؤٹ ہوگئی ہو۔ ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۰ اوور پر ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کا حساب ۱۵۰ ÷ ۵۰، یعنی ۳.۰۰ رنز فی اوور ہوگا۔ ۲۰ اوور کے میچ میں ۱۵ اوور پر ۷۳ رنز پر آل آؤٹ ٹیم کا متعلقہ رن ریٹ ۷۳ ÷ ۲۰، یعنی ۳.۶۵ ہوگا۔

یہ قاعدہ ٹیموں کو جان بوجھ کر جلدی آل آؤٹ ہوکر مصنوعی طور پر بہتر رن ریٹ بنانے سے روکتا ہے۔ اگر ایک ٹیم ۱۵ اوور میں ۷۳ رنز پر آؤٹ ہو اور آسٹریلیا ۶.۲۰ اوور میں ۷۸ رنز بناکر جیت جائے، تو مخالف کی شرح تقریباً ۱۲.۵۸ رنز فی اوور بنتی ہے؛ نتیجہ آل آؤٹ ٹیم کے لیے بہت منفی ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ وکٹیں اس حساب کو براہ راست نہیں بدلتیं، صرف آل آؤٹ ہونے کی صورت میں مقررہ اوورز کا اصول فعال ہوتا ہے۔

بیٹر کے آل آؤٹ ہونے کے بعد اسکورر مقررہ اوورز کے ساتھ حساب درج کرتا ہوا

تیسری غلطی: ایک میچ اور پورے ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ ایک ہے؟

نہیں، ایک میچ کا نیٹ رن ریٹ صرف اس مقابلے کا فرق دکھاتا ہے، جبکہ ٹورنامنٹ کا نیٹ رن ریٹ تمام مکمل میچوں کے مجموعی رنز اور اوورز سے نکلتا ہے۔ فرض کریں ٹیم ایک نے پہلے میچ میں ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنائے اور ٹیم دو نے ۲۰ اوورز میں ۱۷۰؛ ٹیم ایک کا میچ رن ریٹ فرق +۰.۵۰ ہوگا۔ لیکن اگلے میچ میں ٹیم ایک ۲۰ اوورز میں ۱۳۰ رنز بنائے اور مخالف ۱۹ اوورز میں ۱۳۱ رنز بناکر جیت جائے، تو مجموعی حساب دونوں میچوں کے تمام اعداد سے ہوگا۔

ٹورنامنٹ فارمولا یوں لکھیں:
نیٹ رن ریٹ = تمام بنائے گئے رنز ÷ تمام بیٹنگ اوورز − تمام دیے گئے رنز ÷ تمام باؤلنگ اوورز

مثال میں ٹیم ایک کے بنائے رنز ۳۱۰ اور بیٹنگ اوورز ۴۰ ہیں، اس لیے بیٹنگ شرح ۷.۷۵ بنتی ہے۔ دیے گئے رنز ۳۰۱ اور باؤلنگ اوورز ۳۹ ہیں، اس لیے باؤلنگ شرح تقریباً ۷.۷۲ ہے؛ مجموعی نیٹ رن ریٹ تقریباً +۰.۰۳ ہوگا۔ یہاں ہر میچ کے نیٹ رن ریٹ کو سادہ طور پر جمع کرنا درست نہیں، کیونکہ اوورز برابر نہیں بھی ہوسکتے۔

مکمل حساب دیکھیں

ڈک ورتھ لوئس اسٹرن میں رن ریٹ کیسے بدلتا ہے؟

بارش سے متاثرہ میچ میں نیٹ رن ریٹ کا حساب مقابلے کے منظور شدہ نظرثانی شدہ اسکور اور اوورز کے مطابق کیا جاتا ہے، نہ کہ لازماً پہلی اننگز کے اصل ۲۰ یا ۵۰ اوورز کے مطابق۔ اگر ٹیم ایک نے ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز بنائے اور بارش کے بعد ٹیم دو کو ۱۵ اوورز میں نیا ہدف دیا گیا، تو اسکور کارڈ اور مقابلے کے ضوابط کے مطابق متعلقہ وسائل استعمال ہوں گے۔ صرف ۱۸۰ کو ۲۰ سے تقسیم کرکے عام نتیجہ نکالنا قابل اعتماد نہیں۔

ڈک ورتھ لوئس اسٹرن نظام بارش کے دوران باقی اوورز اور وکٹوں کو وسائل کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس لیے ہدف، پار اسکور اور اننگز کی لمبائی اہم ہوجاتی ہے۔ ایک خاص عملی نکتہ یہ ہے کہ ہر بارش والے میچ میں شائقین کو ٹی وی گرافک کا “نظرثانی شدہ ہدف” دیکھنا چاہیے؛ ابتدائی اسکور سے خود رن ریٹ بنانا گمراہ کن ہوسکتا ہے۔ بے نتیجہ میچ عموماً ٹیم کے نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں کیا جاتا، مگر متعلقہ ٹورنامنٹ کے ضوابط حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔

نیٹ رن ریٹ کی درجہ بندی پر اصل اثر کیا ہے؟

نیٹ رن ریٹ عام طور پر اس وقت فیصلہ کن بنتا ہے جب دو یا زیادہ ٹیموں کے پوائنٹس برابر ہوں۔ آئی سی سی ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پاکستان سپر لیگ جیسے مقابلوں میں جیت کے پوائنٹس پہلے آتے ہیں، پھر مقابلے کے ضوابط کے مطابق نیٹ رن ریٹ یا دوسرا ٹائی بریکر استعمال ہوسکتا ہے۔ اس لیے صرف بڑے فرق سے جیتنا کافی نہیں؛ شکست کے مارجن کو کم رکھنا بھی قیمتی ہے۔

مثبت نیٹ رن ریٹ کا مطلب ہے کہ ٹیم نے مجموعی طور پر مخالفین سے تیز بیٹنگ کی یا انہیں کم شرح پر رنز بنانے دیے۔ منفی شرح کے باوجود زیادہ پوائنٹس والی ٹیم بہتر پوزیشن میں رہ سکتی ہے، کیونکہ نیٹ رن ریٹ عام طور پر پوائنٹس کے بعد آتا ہے۔ وکی پیڈیا پر نیٹ رن ریٹ کی وضاحت بھی اسی فرق کو بنیادی معیار قرار دیتی ہے۔

مجموعی فائدہ بڑھانے کے لیے تین عملی فیصلے اہم ہیں:

۱۔ جیتنے کے بعد غیرضروری آخری گیندوں میں وقت ضائع نہ کریں، اگر مطلوبہ رن ریٹ کم کرنا ممکن ہو۔
۲۔ تعاقب میں ہدف حاصل ہونے کے بعد اوورز کا فرق نوٹ کریں، کیونکہ کم اوورز میں جیت باؤلنگ شرح کو متاثر کرتی ہے۔
۳۔ پوائنٹس برابر ہونے کی ممکنہ صورت میں ہر میچ کا مجموعی ریکارڈ الگ رکھیں، صرف ٹی وی پر دکھائی گئی عارضی شرح پر انحصار نہ کریں۔

بارش کے بعد کرکٹ گراؤنڈ میں ڈک ورتھ لوئس ہدف دکھاتا ہوا بڑا ڈیجیٹل اسکور بورڈ

رن ریٹ کا حساب خود کیسے چیک کریں؟

سب سے پہلے اسکور کارڈ سے بیٹنگ کے کل رنز اور قانونی گیندیں لکھیں، پھر باؤلنگ کے دوران دیے گئے رنز اور قانونی گیندیں الگ درج کریں۔ دوسرے مرحلے میں ہر گیندوں کے مجموعے کو ۶ سے تقسیم کرکے اوورز بنائیں؛ ۱۰۶ گیندیں ۱۷.۴ اوورز ہیں، ۱۷.۶ نہیں۔ آخری مرحلے میں ٹیم کی بیٹنگ شرح سے مخالف کی بیٹنگ شرح منہا کریں، اور جواب کو عموماً دو اعشاریہ تک لکھیں۔

مثال کے طور پر پاکستان نے ۴۰ اوورز میں ۳۶۰ رنز بنائے اور سری لنکا نے ۴۰ اوورز میں ۲۸۰ رنز بنائے۔ پاکستان کی شرح ۹.۰۰، سری لنکا کی شرح ۷.۰۰، اس لیے پاکستان کا میچ نیٹ رن ریٹ +۲.۰۰ اور سری لنکا کا −۲.۰۰ ہوگا۔ اگر پاکستان نے ۳۸ اوورز میں ہدف حاصل کیا ہوتا، تو پاکستان کی اپنی بیٹنگ شرح ۳۶۰ ÷ ۳۸، یعنی تقریباً ۹.۴۷ بنتی؛ تاہم ٹورنامنٹ کے سرکاری حساب میں مقابلے کے ضوابط اور اسکور کارڈ کا مقررہ طریقہ دیکھا جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں براہ راست میچ حساب اور مجموعی نیٹ رن ریٹ کو الگ رکھنا ضروری ہے۔

اپنا رن ریٹ چیک کریں

Frequently Asked Questions

سوال: کرکٹ میں رن ریٹ کیا ہوتا ہے؟

جواب: رن ریٹ ایک اوور میں بنائے گئے اوسط رنز کو کہتے ہیں۔ اسے کل رنز کو قانونی اوورز یا قانونی گیندوں سے تقسیم کرکے نکالا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰ اوورز میں ۱۸۰ رنز کا رن ریٹ ۹.۰۰ ہے۔ وائڈ اور نو بال کے رنز مجموعے میں شامل ہوتے ہیں، مگر غیر قانونی گیندیں اوور کی گنتی میں شامل نہیں ہوتیں۔

سوال: نیٹ رن ریٹ کیسے نکالتے ہیں؟

جواب: نیٹ رن ریٹ ٹیم کی اوسط بیٹنگ شرح میں سے مخالف کی اوسط بیٹنگ شرح منہا کرکے نکالا جاتا ہے۔ فارمولا ہے: کل بنائے گئے رنز ÷ کل بیٹنگ اوورز، منفی، کل دیے گئے رنز ÷ کل باؤلنگ اوورز۔ ٹورنامنٹ میں تمام مکمل میچوں کے مجموعی اعداد استعمال ہوتے ہیں، ہر میچ کے نیٹ رن ریٹ کو سادہ طور پر جمع نہیں کیا جاتا۔

سوال: ۱۹.۵ اوورز کو حساب میں کیسے شامل کریں؟

جواب: ۱۹.۵ اوورز کو ۱۱۹ قانونی گیندیں سمجھیں، ۱۹.۵ اعشاریہ اوور نہیں۔ رن ریٹ کے لیے فارمولا کل رنز × ۶ ÷ ۱۱۹ ہوگا۔ اسی اصول سے ۱۴.۲ اوورز ۸۶ گیندیں اور ۷.۴ اوورز ۴۶ گیندیں بنتے ہیں۔

سوال: آل آؤٹ ہونے پر رن ریٹ کیسے بدلے گا؟

جواب: آل آؤٹ ٹیم کے رنز مقررہ مکمل اوورز سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ ۵۰ اوور کے میچ میں ۳۰ اوور پر ۱۵۰ رنز پر آل آؤٹ ہونے والی ٹیم کا حساب ۱۵۰ ÷ ۵۰، یعنی ۳.۰۰ ہوگا۔ اس قاعدے کا مقصد جلدی آل آؤٹ ہونے سے مصنوعی طور پر بہتر رن ریٹ حاصل کرنے کا امکان ختم کرنا ہے۔

سوال: کیا وکٹوں کی تعداد نیٹ رن ریٹ پر اثر ڈالتی ہے؟

جواب: وکٹوں کی تعداد نیٹ رن ریٹ کے بنیادی فارمولے میں براہ راست شامل نہیں ہوتی۔ ٹیم ایک وکٹ سے جیتے یا نو وکٹ سے، حساب رنز اور قانونی اوورز سے ہوتا ہے۔ البتہ آل آؤٹ ہونے کی صورت میں مقررہ اوورز کا اصول لاگو ہوتا ہے، اس لیے آل آؤٹ اننگز کا نتیجہ بالواسطہ طور پر سخت ہوسکتا ہے۔

سوال: ڈک ورتھ لوئس میچ میں رن ریٹ کیسے نکالیں؟

جواب: بارش سے متاثرہ میچ میں منظور شدہ نظرثانی شدہ اوورز، ہدف اور اسکور کارڈ کے مطابق رن ریٹ نکالا جاتا ہے۔ پہلی اننگز کے اصل ۲۰ یا ۵۰ اوورز کو خودکار طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ حتمی حساب کے لیے آئی سی سی یا متعلقہ ٹورنامنٹ کے سرکاری اسکور کارڈ کو ترجیح دیں۔

سوال: کیا بے نتیجہ میچ نیٹ رن ریٹ میں شامل ہوتا ہے؟

جواب: بے نتیجہ یا مکمل طور پر منسوخ میچ عموماً نیٹ رن ریٹ میں شامل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹورنامنٹ کے ضوابط مختلف صورتوں، خاص طور پر بارش سے مختصر ہونے والے میچ، کے لیے الگ طریقہ دے سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی مقابلے یا کسی مقامی لیگ میں سرکاری قوانین ضرور دیکھیں۔

کرکٹ میں رن ریٹ کا درست حساب چار چیزوں پر کھڑا ہے: رنز، قانونی گیندیں، آل آؤٹ کا مقررہ اوور قاعدہ اور ٹورنامنٹ کے سرکاری ضوابط۔ اوورز کو گیندوں میں تبدیل کریں، مجموعی نیٹ رن ریٹ کو ہر میچ کے فرق سے الگ رکھیں، اور بارش والے میچ میں نظرثانی شدہ اسکور استعمال کریں۔ یہی طریقہ پاکستان سپر لیگ، آئی سی سی ورلڈ کپ اور مقامی مقابلوں میں قابل اعتماد نتیجہ دیتا ہے۔

کرکٹ میں بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی

وکٹ ٹریک پر مزید پڑھیں

وکٹ ٹریک · The Archive

متعلقہ مضامین