مواد پر جائیں مواد پر جائیں
فیلڈنگ پوزیشنز: 11 نام ایک میچ میں
آرکائیو پر واپس جائیں مضمون

فیلڈنگ پوزیشنز: 11 نام ایک میچ میں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام ٹیم کے دفاعی منصوبے، گیند کی سمت اور بلے باز کے شاٹ کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائ...

19 اکتوبر، 2026 5 min read

فیلڈنگ پوزیشنز: 11 نام ایک میچ میں

کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام ٹیم کے دفاعی منصوبے، گیند کی سمت اور بلے باز کے شاٹ کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آن اور لانگ آف کو بنیادی میدان بندی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ایک وقت میں گیارہ فیلڈرز مقرر کیے جا سکتے ہیں، جبکہ وکٹ کیپر بھی اسی تعداد میں شامل ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سلپ کے تین یا چار فیلڈرز عام ہیں، مگر پاکستان سپر لیگ کے بیس اوورز کے مقابلوں میں دائرے کے اندر فیلڈنگ پابندیاں زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین اور میریلی بون کرکٹ کلب کی اصطلاحات ان ناموں کی بنیاد ہیں۔ عملی فائدے کے لیے پہلے گیند باز کی لائن، پھر بلے باز کا پسندیدہ شاٹ، اور آخر میں میدان کی رفتار دیکھ کر پوزیشن منتخب کریں۔

کرکٹ گراؤنڈ کا اوپر سے منظر، گیارہ فیلڈرز مختلف پوزیشنز پر کھڑے، روشن اسٹیڈیم اور واضح پچ

مختصر جواب یہ ہے کہ فیلڈنگ پوزیشنز کو تین حصوں میں سمجھنا آسان ہے: آف سائیڈ، لیگ سائیڈ اور وکٹ کے پیچھے۔ آف سائیڈ میں سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف اور تھرڈ مین شامل ہیں؛ لیگ سائیڈ میں اسکوائر لیگ، فائن لیگ، مڈ وکٹ، مڈ آن اور لانگ آن آتے ہیں؛ جبکہ وکٹ کیپر بیٹر کے بالکل پیچھے موجود رہتا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے آف سائیڈ بیٹر کے دائیں طرف اور لیگ سائیڈ بائیں طرف ہوتی ہے، مگر بائیں ہاتھ کے بلے باز کے خلاف یہ سمتیں الٹ جاتی ہیں۔ تیز گیند، اسپن، سوئنگ، پچ کی رفتار اور میچ فارمیٹ کے مطابق ایک ہی پوزیشن کا فاصلہ بدل سکتا ہے۔ اس لیے نام یاد کرنے کے ساتھ شاٹ کا زاویہ بھی سمجھیں۔ یہی طریقہ فیلڈ سیٹ اپ کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔

اگر بیٹر آف سائیڈ کھیلتا ہے: سلپ سے کور تک فیلڈ رکھیں

آف سائیڈ کی فیلڈنگ پوزیشنز دائیں ہاتھ کے بلے باز کے کور ڈرائیو، کٹ، ایج اور سیدھے شاٹ کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ سلپ وکٹ کے پیچھے آف سائیڈ پر کھڑا ہوتا ہے، گلی سلپ سے زیادہ چوڑے زاویے پر، پوائنٹ کٹ شاٹ کے سامنے، کور ڈرائیو کے راستے پر، جبکہ مڈ آف سیدھے یا ہلکے آف سائیڈ میں رہتا ہے۔ تھرڈ مین عموماً سلپ اور باؤنڈری کے درمیان پیچھے ہوتا ہے اور موٹے کنارے سے آنے والی گیند روکنے کا کام کرتا ہے۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں فیلڈر کی جگہ کا مقصد الگ نام سے زیادہ گیند کے ممکنہ راستے سے جڑا ہوتا ہے؛ اس لیے کپتان کو صرف روایتی نقشہ نہیں، بلے باز کی عادت بھی دیکھنی چاہیے۔ مثال کے طور پر بابر اعظم کے خلاف نئی گیند پر سلپ اور گلی اہم ہو سکتے ہیں، مگر کم رفتار پچ پر پوائنٹ اور کور کا فاصلہ زیادہ قیمتی بن جاتا ہے۔ پہلے سلپ، پھر گلی، آخر میں کور کی گہرائی طے کریں۔

آف سائیڈ فیلڈ سیٹ کرتے وقت گیند باز کی لائن کو مرکز بنائیں۔ آف اسٹمپ سے باہر سوئنگ کرنے والی گیند کے لیے پہلی سلپ نسبتاً قریب، دوسری سلپ قدرے پیچھے اور گلی کٹ کے زاویے پر رکھی جا سکتی ہے؛ لیکن اسپنر کے خلاف یہی ترتیب بدل کر شارٹ کور یا سلی پوائنٹ شامل کیا جاتا ہے۔ ٹوئنٹی 20 میں پاور پلے کے پہلے 6 اوورز کے دوران دائرے کے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود رہتی ہے، اس لیے پوائنٹ اور کور کے درمیان غلط فاصلہ ایک چوکے میں بدل سکتا ہے۔ ٹیسٹ میچ میں صبر، کنارے اور کیچ کی شرح اہم ہیں، جبکہ پاکستان سپر لیگ میں آخری اوورز کے لیے باؤنڈری روکنا ترجیح بن جاتا ہے۔ ایک مفید اصول یہ ہے: خطرناک شاٹ کے سامنے فیلڈر قریب رکھیں، کم خطرے والے شاٹ کے پیچھے باؤنڈری فیلڈر رکھیں، اور ہر اوور کے بعد گیند کی رفتار کے مطابق جگہ دوبارہ ناپیں۔

مزید عملی فیلڈ نقشے اور میچ حکمت عملی دیکھنے کے لیے یہ راستہ اختیار کریں۔

مزید جانیں

آف سائیڈ فیلڈنگ اور کور ڈرائیو کی حکمت عملی

اگر بیٹر لیگ سائیڈ پر حملہ کرے: اسکوائر لیگ سے لانگ آن تک

لیگ سائیڈ فیلڈنگ کا بنیادی مقصد پل، ہک، فلک، سویپ اور مڈ وکٹ کے شاٹس روکنا ہے۔ اسکوائر لیگ بیٹر کے برابر، فائن لیگ وکٹ کے پیچھے لیگ سائیڈ پر، مڈ وکٹ سامنے کے ترچھے زاویے پر، مڈ آن سیدھی لائن میں، اور لانگ آن باؤنڈری کے قریب ہوتا ہے۔ لیگ سائیڈ پر ایک غلط قدم دو رنز یا چوکے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر جب محمد رضوان یا جوس بٹلر جیسے بیٹرز کلائی کے استعمال سے گیند کو خالی جگہ میں موڑتے ہیں۔ فاسٹ بولر کے خلاف فائن لیگ اور ڈیپ اسکوائر لیگ باؤنڈری بچاتے ہیں، جبکہ آف اسپنر کے خلاف شارٹ فائن لیگ یا سلی پوائنٹ وکٹ لینے کا موقع بنا سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے کھیل کے ضوابط فیلڈرز کی تعداد اور دائرے کی پابندیوں کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے فارمیٹ جاننا پوزیشن کے نام یاد رکھنے جتنا ہی ضروری ہے۔

مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ کو ایک ہی جگہ سمجھنا غلطی ہے۔ مڈ وکٹ عموماً بیٹر کے سامنے ترچھے زاویے پر ہوتا ہے، جبکہ اسکوائر لیگ تقریباً بیٹر کے برابر کھڑا ہوتا ہے؛ اسی معمولی فرق سے فلک اور پل کے شاٹ پر ردعمل کا وقت بدل جاتا ہے۔ اسپن کے خلاف سلی مڈ وکٹ، شارٹ لیگ یا فارورڈ شارٹ لیگ گیند کے نیچے آنے والے خطرے کو کم کر سکتے ہیں، مگر یہ پوزیشنز ریفلیکس اور حفاظتی سامان کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایک کم معروف عملی نکتہ یہ ہے کہ باؤنڈری کا فاصلہ صرف پچ کے مرکز سے نہ ناپیں؛ بیٹر کے کریز سے ممکنہ رابطے کے مقام تک زاویہ دیکھیں، کیونکہ مربع باؤنڈری دونوں جانب برابر نہیں ہوتی۔ پہلے مڈ وکٹ کا زاویہ، پھر اسکوائر لیگ کی گہرائی، اور آخر میں لانگ آن کی باؤنڈری طے کرنا زیادہ درست ترتیب ہے۔

ایک فیلڈنگ کپتان سفید گیند کے میچ میں اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور لانگ آن کی پوزیشنز سمجھاتا ہوا

لیگ سائیڈ کے لیے یہ فوری ترتیب مفید رہتی ہے:

  1. پل اور ہک کے لیے ڈیپ اسکوائر لیگ رکھیں۔
  2. فلک کے لیے فائن لیگ اور شارٹ فائن لیگ کا فاصلہ طے کریں۔
  3. اسپنر کے خلاف مڈ وکٹ اور سلی مڈ وکٹ کو بیٹر کے پاؤں کے مطابق منتقل کریں۔
  4. آخری پانچ اوورز میں لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ اور ڈیپ اسکوائر لیگ کو باؤنڈری کے قریب رکھیں۔

وکٹ، گیند اور بیٹر کے مطابق لیگ سائیڈ پلان دیکھنے کا یہ مناسب وقت ہے۔

تفصیل دیکھیں

اگر گیند وکٹ کے پیچھے نکلے: کیپر، فائن لیگ اور تھرڈ مین سنبھالیں

وکٹ کے پیچھے فیلڈنگ میں وکٹ کیپر، سلپ، فائن لیگ اور تھرڈ مین سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وکٹ کیپر اسٹمپس کے پیچھے گیند جمع کرتا، اسٹمپنگ کا موقع بناتا اور کنارے کی آواز یا حرکت پر فوری ردعمل دیتا ہے۔ سلپ بیٹر کے بیرونی کنارے کے لیے قریب رہتا ہے، فائن لیگ ٹانگ کی سمت نکلنے والی گیند روکتا ہے، جبکہ تھرڈ مین موٹے کنارے، گائیڈ یا اوپر سے کھیلے گئے شاٹ کے خلاف باؤنڈری بچاتا ہے۔ نئی گیند کے پہلے 10 اوورز میں سوئنگ موجود ہو تو تھرڈ مین کو اندر رکھ کر اضافی سلپ لگانا جارحانہ انتخاب ہو سکتا ہے؛ مگر گیند پرانی ہو جائے تو تھرڈ مین کی باؤنڈری پوزیشن رنز کم کرنے میں زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بین الاقوامی میچوں میں بھی کپتان اکثر اسی خطرے اور فائدے کا توازن فارمیٹ کے مطابق بدلتے ہیں۔

کیپر کی پوزیشن بھی مستقل نہیں رہتی۔ تیز گیند باز کے خلاف وہ اسٹمپس سے کئی میٹر پیچھے کھڑا ہو سکتا ہے، جبکہ اسپنر کے خلاف قریب آ کر اسٹمپنگ کا دباؤ بڑھاتا ہے۔ دستانے کا زاویہ، گیند کی اچھال اور بیٹر کا قدم تینوں ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ایک اہم عملی فرق یہ ہے کہ فائن لیگ کے قریب کھڑے فیلڈر کو صرف گیند روکنے کے لیے نہیں، سنگل کے زاویے کو بند کرنے کے لیے بھی رکھا جاتا ہے؛ اگر وہ بہت پیچھے ہو تو بیٹر آسانی سے ایک رن لے کر اسٹرائیک بدل سکتا ہے۔ اسی طرح تھرڈ مین کو چوڑا کرنے سے کنارے کا چوکا رک سکتا ہے، لیکن پوائنٹ اور کور کے درمیان سنگل کھل جاتا ہے۔ اس لیے ہر پوزیشن کا اصل فائدہ رنز، وکٹ اور اسٹرائیک کے تینوں اثرات سے ناپیں، صرف کیچ کے امکان سے نہیں۔

وکٹ کیپنگ، سلپ کیچنگ اور تیز ردعمل کی مشقیں

کرکٹ میں میدان بندی صرف ناموں کی فہرست نہیں۔ یہ ایک حساب ہے: گیند کہاں پچ ہوگی، بیٹر کس شاٹ کو ترجیح دے گا، اور باؤنڈری کتنی دور ہے۔ وکٹ ٹریک پر میچ جائزوں، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار، پاکستان سپر لیگ کی کوریج، بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی کے ذریعے اسی حساب کو مزید واضح انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔

عام فیلڈنگ غلطیوں سے کیسے بچیں؟

عام غلطیوں سے بچنے کے لیے فیلڈر کو پوزیشن کا نام، ممکنہ شاٹ اور باؤنڈری کا فاصلہ ایک ساتھ سمجھنا چاہیے۔ سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ فیلڈر صرف کپتان کے اشارے پر کھڑا ہو جائے اور بیٹر کے کریز، ہاتھ کے زاویے یا گیند کی رفتار کو نظرانداز کرے۔ دوسری غلطی سلپ، گلی، پوائنٹ اور تھرڈ مین کو ایک ہی لائن سمجھنا ہے؛ ان چاروں کے درمیان چند قدم کا فرق کیچ اور چوکے کا فرق بن سکتا ہے۔ تیسری غلطی بائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کی سمت نہ بدلنا ہے۔ چوتھی غلطی پاور پلے، درمیانی اوورز اور آخری اوورز کے الگ تقاضے نہ سمجھنا ہے۔ ویکیپیڈیا کی کرکٹ فیلڈنگ اصطلاحات بنیادی ناموں کے لیے مفید حوالہ دیتی ہیں، مگر عملی میدان بندی کے لیے میچ کی صورتحال بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

غلط فیلڈنگ پوزیشنز کی فوری تشخیص کے لیے یہ فہرست استعمال کریں:

  • کیا فیلڈر ممکنہ شاٹ کے سامنے ہے یا صرف روایتی جگہ پر؟
  • کیا دائیں اور بائیں ہاتھ کے بیٹر کے مطابق سمت بدلی گئی ہے؟
  • کیا باؤنڈری فیلڈر کے پیچھے محفوظ ہے؟
  • کیا سنگل روکنے اور چوکا روکنے میں درست ترجیح منتخب ہوئی ہے؟
  • کیا فیلڈر گیند باز کے رن اپ اور امپائر کی نظر میں رکاوٹ تو نہیں؟
  • کیا دائرے کی پابندی، اوورز کی تعداد اور وکٹ کی حالت معلوم ہے؟

میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین فیلڈرز کی قانونی جگہ اور حرکت کے لیے بنیادی معیار فراہم کرتے ہیں۔ ضابطوں کا مرکزی اصول واضح ہے: “فیلڈر کو غیر منصفانہ طور پر بلے باز کو روکنا نہیں چاہیے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ جارحانہ فیلڈ سیٹ بھی کھیل کی روح، امپائر کی ہدایت اور بیٹر کے قانونی راستے کے اندر رہنا چاہیے۔ اس نکتے کو نظرانداز کرنے سے ایک اضافی رن، جرمانہ یا کپتان پر دباؤ آ سکتا ہے۔

قوانین، پوزیشنز اور جدید میچ تجزیے کو ایک جگہ دیکھنے کے لیے یہ مفید آغاز ہے۔

حکمت عملی پڑھیں

تیس دن کی مشق میں فیلڈنگ پوزیشنز کیسے پکی کریں؟

تیس دن میں فیلڈنگ پوزیشنز یاد کرنے کا بہترین طریقہ میدان کا نقشہ، شاٹ کی سمت اور روزانہ کی مختصر مشق کو ملانا ہے۔ پہلے 7 دن آف سائیڈ کے نام، اگلے 7 دن لیگ سائیڈ کے نام، تیسرے ہفتے وکٹ کے پیچھے اور باؤنڈری پوزیشنز، اور آخری 9 دن میچ حالات کے مطابق مکمل فیلڈ سیٹ پر صرف کریں۔ ہر مشق میں ریکارڈ کریں کہ گیند کہاں پچ ہوئی، بیٹر نے کیا شاٹ کھیلا، اور کس پوزیشن نے رن روکا۔ اس طریقے سے نام رٹنے کے بجائے فیصلہ سازی کی عادت بنتی ہے۔ ایک چھوٹا مگر مفید معیار یہ ہے کہ کھلاڑی 30 سیکنڈ کے اندر گیارہ پوزیشنز کا بنیادی نقشہ بنا سکے اور دائیں ہاتھ کے بیٹر سے بائیں ہاتھ کے بیٹر تک سمت تبدیل کر سکے۔ وکٹ ٹریک کے روزانہ کرکٹ مواد میں اعداد و شمار دیکھتے وقت اسی فریم ورک سے فیلڈ سیٹ کے فیصلے بھی نوٹ کریں۔

مشق کا عملی شیڈول یوں رکھا جا سکتا ہے:

  1. دن 1 تا 7: سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف اور تھرڈ مین۔
  2. دن 8 تا 14: فائن لیگ، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ، مڈ آن اور لانگ آن۔
  3. دن 15 تا 21: وکٹ کیپر، شارٹ فیلڈرز، کیچ زاویے اور باؤنڈری رابطہ۔
  4. دن 22 تا 30: ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹوئنٹی 20 کے مکمل فیلڈ سیٹ۔

تیس دن کے آخر میں صرف یادداشت نہ جانچیں؛ تین سوالات پوچھیں: اس گیند پر خطرناک شاٹ کون سا ہے؟ رن کہاں سے آئے گا؟ وکٹ کا سب سے حقیقت پسندانہ موقع کہاں ہے؟ اگر جواب فوری مل جائے تو فیلڈنگ پوزیشنز واقعی سمجھ آ گئی ہیں۔ اگر نہیں، تو نقشہ دوبارہ بنائیں، باؤنڈری کے فاصلے کی پیمائش کریں اور ایک ہی بیٹر کے خلاف مختلف گیند بازوں کے فیلڈ سیٹ کا موازنہ کریں۔ یہی چھوٹا سا تجزیاتی فرق عام کھیل اور منظم کرکٹ کے درمیان واضح برتری پیدا کرتا ہے۔

نوجوان کرکٹر تربیتی میدان میں کونز کے ذریعے سلپ، پوائنٹ، کور اور مڈ وکٹ کی جگہیں نشان زد کرتے ہوئے

فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد ہو جائیں تو اگلا قدم میچ ڈیٹا کے ساتھ انہیں پرکھنا ہے۔ کون سا بیٹر شارٹ فائن لیگ پر کیچ دیتا ہے، کون سا اسپنر مڈ وکٹ کو کھیلنے پر مجبور کرتا ہے، اور کون سا گراؤنڈ کور ڈرائیو کو چوکے میں بدلتا ہے؛ یہ سوالات فیلڈ سیٹ کو اندازے کے بجائے ثبوت پر لاتے ہیں۔ آخر میں بہترین کپتان وہ نہیں جو ہمیشہ زیادہ فیلڈرز قریب رکھے، بلکہ وہ ہے جو ایک رن، ایک چوکے اور ایک وکٹ کی قیمت کو اوور کی صورتحال کے مطابق درست وزن دے۔ آج ہی میدان کا خالی نقشہ بنائیں، گیارہ نام لکھیں، اور ہر نام کے ساتھ ایک ممکنہ شاٹ درج کریں۔

مزید کرکٹ تجزیہ اور روزانہ میچ بصیرت کے لیے وکٹ ٹریک سے جڑیں۔

ابھی شروع کریں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کیا ہیں؟

جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین اور لانگ آن شامل ہیں۔ بعض فہرستوں میں لانگ آف، شارٹ کور، سلی پوائنٹ، شارٹ لیگ اور ڈیپ اسکوائر لیگ بھی الگ ناموں سے درج ہوتے ہیں۔ نام فیلڈر کے مقام، وکٹ سے فاصلے اور بیٹر کے زاویے کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔ دائیں ہاتھ کے بیٹر کے خلاف ترتیب بائیں ہاتھ کے بیٹر کے مقابلے میں الٹ سمت اختیار کرتی ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کا نقشہ کیسے یاد کیا جائے؟

جواب: پہلے آف سائیڈ، پھر لیگ سائیڈ، اور آخر میں وکٹ کے پیچھے کی پوزیشنز یاد کریں۔ آف سائیڈ میں سلپ، گلی، پوائنٹ، کور اور مڈ آف؛ لیگ سائیڈ میں مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ اور فائن لیگ شامل کریں۔ روزانہ خالی کاغذ پر 30 سیکنڈ میں میدان بنائیں اور ہر پوزیشن کے ساتھ روکنے والا شاٹ لکھیں۔ سات دن بعد دائیں اور بائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے نقشہ تبدیل کرنے کی مشق کریں۔

سوال: سلپ اور گلی فیلڈنگ میں کیا فرق ہے؟

جواب: سلپ وکٹ کے زیادہ قریب اور گلی اس سے چوڑے زاویے پر کھڑا ہوتا ہے۔ سلپ اندرونی یا بیرونی کنارے سے آنے والی گیند پکڑنے کے لیے موزوں ہے، جبکہ گلی کٹ، اوپری کنارے اور چوڑے ایج کے خلاف بہتر زاویہ فراہم کرتا ہے۔ نئی گیند کے سوئنگ میں دونوں پوزیشنز اہم ہو سکتی ہیں۔ گیند کی رفتار، بیٹر کے ہاتھ اور بولر کی لائن کے مطابق ان کا فاصلہ چند قدم آگے یا پیچھے کیا جاتا ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشن غلط ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب: پہلے گیند کی لائن، بیٹر کا پسندیدہ شاٹ اور باؤنڈری کا فاصلہ دوبارہ دیکھ کر فیلڈر منتقل کریں۔ اگر مسلسل سنگل پوائنٹ یا مڈ وکٹ سے آ رہا ہو تو فیلڈر کو قریب لائیں؛ اگر چوکے لگ رہے ہوں تو باؤنڈری گہری کریں۔ اوور ختم ہونے کا انتظار ہمیشہ ضروری نہیں، کپتان قانونی اور واضح اشارے سے فوری تبدیلی کر سکتا ہے۔ تاہم دائرے کی پابندی، فیلڈر کی حفاظت اور امپائر کی ہدایت کو نظرانداز نہ کریں۔

سوال: پاور پلے میں فیلڈنگ پوزیشنز کیوں مختلف ہوتی ہیں؟

جواب: پاور پلے میں دائرے کے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود ہوتی ہے، اس لیے اندر موجود فیلڈرز کو سنگل اور چوکے دونوں روکنے پڑتے ہیں۔ ٹوئنٹی 20 کے پہلے 6 اوورز میں سلپ، پوائنٹ، کور اور مڈ آف کا انتخاب گیند کی حرکت کے مطابق کیا جاتا ہے، جبکہ باؤنڈری فیلڈرز محدود رہتے ہیں۔ پاور پلے ختم ہونے کے بعد کپتان تھرڈ مین، ڈیپ اسکوائر لیگ اور لانگ آن کو زیادہ گہرا کر سکتا ہے۔ ہر فارمیٹ کے تازہ ضابطے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے جانچنا بہتر ہے۔

سوال: فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

جواب: بنیادی نام اور نقشہ عموماً 7 سے 14 دن کی روزانہ مشق میں یاد ہو سکتے ہیں، جبکہ میچ کے مطابق درست فیصلہ تقریباً 30 دن میں بہتر ہوتا ہے۔ پہلے ہفتے آف سائیڈ، دوسرے ہفتے لیگ سائیڈ، اور تیسرے ہفتے وکٹ کے پیچھے کی پوزیشنز پر توجہ دیں۔ آخری مرحلے میں ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹوئنٹی 20 کے فیلڈ سیٹ کا موازنہ کریں۔ رفتار بڑھانے کے لیے ہر پوزیشن کے ساتھ ایک مخصوص شاٹ اور ایک ممکنہ وکٹ کا طریقہ ضرور لکھیں۔

سوال: مڈ آف، مڈ آن اور مڈ وکٹ میں کیا فرق ہے؟

جواب: مڈ آف آف سائیڈ پر سیدھی لائن کے قریب، مڈ آن لیگ سائیڈ پر سیدھی لائن کے قریب، اور مڈ وکٹ بیٹر کے سامنے ترچھے لیگ سائیڈ زاویے پر ہوتا ہے۔ مڈ آف ڈرائیو اور سیدھے شاٹ، مڈ آن لو ڈرائیو اور سنگل، جبکہ مڈ وکٹ فلک اور کلائی کے شاٹ کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ اسپنر کے خلاف مڈ وکٹ کو اندر لایا جا سکتا ہے، جبکہ تیز گیند باز کے خلاف اسے باؤنڈری کی طرف بھیجا جا سکتا ہے۔ پوزیشن کا درست فاصلہ پچ، گیند کی رفتار اور بیٹر کے حملے پر منحصر ہے۔

وکٹ ٹریک · The Archive

متعلقہ مضامین